دشتِ وحشت میں دروبام کے خط آتے ہیں
اس خرابے میں بھی آرام کے خط آتے ہیں
اب وہ دل دار بھی لکھتا ہے نصیحت نامے
مجھ سے ناکام کو کب کام کے خط آتے ہیں
کوئے رسوائی کے اڑتے ہیں کبوتر اب تک
کنجِ عزلت میں بھی الزام کے خط آتے ہیں
سارا دن دھوپ میں اندیشۂ شب رہتا ہے
میری صبحوں کو کسی شام کے خط آتے ہیں
اب لفافے سے نکلتی نہیں کوئی خوشبو
اب بھی آتے ہیں مگر نام کے خط آتے ہیں
نقش ہوتا ہے لبِ سرخ کا سرنامے پر
مجھ کو اک حسنِ ہنر فام کے خط آتے ہیں
